کارگل جنگ میں جب بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا گیا تو رات 9 بجے کون کپکپا رہا تھا؟

سابق وزیراعظم نوازشریف کا ماضی کا ریکارڈ یہ ہےکہ ہماری حساس ایجنسیاں بھارتی پائلٹ سے تفتیش کررہی تھیں، تو جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا گیا کہ پائلٹ کی واپسی کے اقدامات کیے جائیں

 کارگل میں جب پاکستانی جانبازوں نے بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا تو رات 9 بجے کون کپکپا رہا تھا؟ سابق وزیراعظم نوازشریف کا ماضی کا ریکارڈ یہ ہے کہ ہماری حساس ایجنسیاں بھارتی پائلٹ سے تفتیش کررہی تھیں، تو جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا گیا کہ پائلٹ کی واپسی کے اقدامات کیے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق روزنامہ دنیا میں منیر احمد بلوچ نے اپنے کالم میں کارگل جنگ کے دوران پاک فوج کے شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی پائلٹ کی گرفتاری سے لے کر اس کی رہائی تک کی تفصیلات تحریر کی ہیں، اس سے پتا چلتا ہے کہ دشمن جب پاک فوج کے ہتھے چڑھ جاتا ہے تو پھر ٹانگیں کیس کی کانپتی ہیں، دراصل یہ کالم سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے بیان پر تحریر کیا گیا ہے، جس پر انڈیا میں بڑا پروپیگنڈا کیا گیا، لیکن اس سے بھارت کو بھرپور جواب دیا گیا ہے کہ ٹانگیں کس کی اور کس طرح کانپتی ہیں

اسی طرح کالم میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے بھارت نواز ہونے سے متعلق بھی بیان کیا گیا۔ کالم میں تحریر کیا گیا ہے کہ ”No Never ‘‘سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ میں کبھی بھی پسند نہیں کروں گا کہ انڈین ایئر فورس کی میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو ‘‘ یہ الفاظ 30 مئی 1999ء کو بھارتی ہائی کمشنر جی پارتھا سارتھی کے تھے جو پاکستان کی قید میں انڈین فلائٹ لیفٹیننٹ کو لینے آئے تھے۔انڈین پائلٹ کی حوالگی کی اس تقریب کے موقع پر ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو دیکھ کر انڈین ہائی کمشنر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور اس نے وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد سے رابطہ کیا‘ جہاں سے کسی شخصیت نے متعلقہ افسران کو حکم دیا کہ تمام میڈیا واپس بھیج دیا جائے ۔ انڈین ہائی کمیشن کے یہ الفاظ وہاں موجود تمام میڈیا اور افسران نے جیسے ہی سنے ان کی گرفت انڈین پائلٹ پر مزید سخت ہو گئی ‘لیکن پرائم منسٹر ہائوس سے ملنے والے احکامات نے انہیں انڈین ہائی کمشنر اور اس کے ایئر اتاشی کے سامنے شرمندہ کر دیا۔اس کے دو دن بعد یعنی یکم جون1999ء کی رات9 بجے کا وقت تھا کہ بھارتی ہائی کمشنر جی پارتھا سارتھی کے کمرے میں رکھے سپیشل فون کی گھنٹی بجنے لگی اور جیسے ہی انڈین ہائی کمشنر نے اپنے خصوصی فون کو اٹھایا تو دوسری جانب سے انہیں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے سٹاف کی جانب سے کہا جانے لگاکہ آپ کے پاس آئے ہوئے ایک خصوصی مہمان سے پردھان منتری اٹل بہاری واجپائی بات کریں گے‘ مہمان کوفوری طور پر اپنے کمرے میں بلا کر ان کی پردھان منتری سے بات کرائی جائے۔چند منٹوں بعد اس خصوصی مہمان کو اس سائونڈپروف کمرے میں لانے کے بعد نئی دہلی کے پردھان منتری ہائوس کے آفس کو ہائی کمشنر کی جانب سے اطلاع کر دی جاتی ہے کہ وہ مہمان پہنچ چکا ہے اور پھر ایک ہلکی سی گھنٹی بجنے کی آواز کے ساتھ ہی وہ خصوصی فون اٹھانے کے بعد دوسری طرف سے چند سیکنڈ فون سننے کے بعد کریڈل اس خصوصی مہمان کے حوالے کر دیا جاتاہے جو دوسری طرف سے اپنے ملک بھارت کے پردھان منتری واجپائی جی سے انتہائی ادب اور مسرت آمیز لہجے میں گفتگو شروع کر دیتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts