Yazid ibn Mu’awiyah (680-683)

Yazid ibn Mu'awiyah

 امیر معاویہ  نے اپنے بعد بیٹے یزید کو جانشیں مقرر کیا۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں خلیفہ کا انتخاب مشورے سے کیا جاتا تھا اور کبھی کسی خلیفہ نے اپنے بیٹے کو خلیفہ نہیں بنایا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ امیر معاویہ نے اس مسئلے پر ممتاز لوگوں سے مشورہ کر لیا تھا اور یزید کی بیعت حج کے موقع پر ہزاروں افراد نے کی تھی لیکن یہ بیعت دباؤ کے تحت کی گئی تھی۔ امیر معاویہ ہر حال میں اپنے بیٹے کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ حالانکہ امام حسن علیہ السلام سے معاہدہ ہوا تھا کہ یزید کو خلیفہ نہیں بنایا جائے گا۔ یزید کی جانشینی کی پانچ ممتاز صحابہ نے کھل کر مخالفت کی جن میں حضرتحسین رض، حضرت عبداللہ بن عمر رض، حضرت عبداللہ بن عباس رض، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر الصدیق ۔ لیکن امیر معاویہ نے یزید کو جانشیں مقرر کرکے اسلامی تاریخ میں ایک سیاسی بدعت کی بنیاد ڈالی جس نے ملوکیت کو نظام کو پوری طرح مستحکم کر دیا۔

یزید اخلاق و کردار کے لحاظ سے بھی اس پائے کا نہیں تھا کہ مسلمانوں کا خلیفہ بنتا۔ اس کا دور کا افسوسناک ترین واقعہ سانحۂ کربلا تھا جس میں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امام حسین اپنے اہل خانہ سمیت شہید کردیے گئے۔ کربلا کا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک حادثہ تھا۔ اس کی ذمہ داری یزید پر عاید ہو یا ابن زیاد پر لیکن مسلمانوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے رسول کے پیارے نواسے سے ایسا سلوک کریں گے۔ چنانچہ کربلا کے اس واقعے کا حجاز میں سخت ردعمل ہوا اور وہاں کے لوگوں نے یزید سے بیعت توڑ کر مشہور صحابی  عبداللہ بن زبیر  کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی۔ اس کے بعد دوسرا افسوسناک واقعہ “واقعۂ حرہ” پیش آیا جس میں امویوں کی فوج نے مدینے میں قتل عام کیا اور لوٹ مار مچائی۔ اس کے بعد اموی فوج نے مکے کا رخ کیا لیکن یزید کا انتقال ہو گیا اور فوج دمشق واپس آگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts